کروں گا میں بیاں کیسے

14th July, 2014

ہوے ہم بے یقین کیسے
ہوے ہم بد گماں کیسے
کئی الفاظ کے ہوتے ، بلند آواز کے ہوتے
زباں ہوتے ہوے بھی ہم ہوے یوں بے زباں کیسے

بہت طاقت ہے ایماں میں
بڑا ہے زور مومن کا
اگر اتنے تھے طاقتور
لٹا یہ کارواں کیسے

بچھڑ کر اپنے رہبر سے
چھٹی یوں ہاتھ سے رسی
کئی فرقوں میں پھر دیکھو
بٹا اک مسلماں کیسے

بیاں کرنا غلط اکثر
ہے آسان مکر اتنا کیوں
اور حق کی بات بھی کرنا
ہوا ہم پے گراں کیسے

منافق بن کے رہنے میں
نظر آتی ہے عزت کیوں
خدا تو دور، اپنا ہی
کریں اب سامنا کیسے

اکٹھا جتنا بھی کر لے
یہ مال و دھن تو دنیا کا
کرے گا کیا مدد تیری
بنے گا پاسباں کیسے

نہیں ہے یاد گزرا کل
دفن ہیں بادشاہ جس میں
جیے کس شان و شوکت سے
ہوے پھر سب فنا کیسے

مجھے ہے فکر بس اتنی
کہ ہو گا سامنا تیرا
کروں گا میں بیاں کیسے
سفر کی داستان کیسے

 

One thought on “کروں گا میں بیاں کیسے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s