گمنام ہی رہنے دے

15th July, 2014

 

 

اس شہر جہالت میں
گمنام ہی رہنے دے
گھٹتا ہے دم خواص میں
مجھے عام ہی رہنے دے

گر گامزن ہوں میں تاریکیوں کی اوڑ
روشن ہو نور علم سے منزل صبح نہیں
اے وقت میرے دوست اک احسان کر کہ تو
میرے سفر پہ چھایی بس شام ہی رہنے دے

میں ہوں جو سوچتا ہوں ،سمجھتا ہوں اور کروں
اس جسم کے اندر ہوں، یہ جسم نہیں میں
گر میں سے آشنا نہ بھی ہوئی تو کیا
دنیا کے لئے “میں”، میرا نام ہی رہنے دے

سجدہ اگر میرا ہے محروم رضا سے
انجان گر رکوع ہے تیری اطاعت سے
میری نماز کو پھر کچھ اور تونہ دے
تقبیر تا سلام، قیام ہی رہنے دے

کوتاہیاں بہت ہیں، گنہگار بہت ہوں
تیرے کرم کا مالک طلبگار بہت ہوں
تیرا رحم ہو گا، تو معاف کرے گا
بیشک یقین نہ دے، ابہام ہی رہنے دے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s