فقط اب لفظ باقی ہیں

21st July, 2014

 

فقط اب لفظ باقی ہیں

گفتگو تیری بڑی بے جاں سی لگتی ہے

سنائی کچھ نہیں دیتا مگر اک شور سا جیسے

اندھیری رات کا کوئی اندھیرا دور سا جیسے

کہ وعدے تم بھی کرتے ہو

بھروسہ ہم بھی کرتے ہیں

تمھیں اپنے خزانوں کا نگہبان ہم ہی چنتے ہیں

تو کیوں پھر بھول جاتے ہو

وفا تم سے نہیں ہوتی

حوس اپنی کے آگے کچھ دکھایی کیوں نہیں دیتا

تڑتّپتی ہے، سلگھتی ہے رعایا انجان ہو تم کیوں

محل میں بیٹھ کرمحفوظ دیواروں کے پیچھے سے

میرا مرنا، میرا رونا سنایی کیوں نہیں دیتا

کیا غیرت بیچ کھاتے ہو

کہ دل سنگ کیسے ہوتا ہے

ہماری عصمتوں کی جب حفاظت کر نہیں سکتا

قلعے میں اپنے گھوڑے بیچ کے کیسے تو سوتا ہے

فرق ہے میری مٹی کیا تیری مٹی سے اے حاکم

کہ میری جان کی قیمت تو اک دو لاکھ ہی ٹھہری

کہ خون تیرا ہے تو مامور ہیں لاکھوں حفاظت پر

یہ کیا انصاف کرتے ہو

ضرب مجھ پہ لگاتے ہو مگر دامن

تم اپنا چاک کرتے ہو

سمجھ اے کاش تم سکتے

تمھیں کیوں یاد نہیں یہ

جو بیچا چند نوٹوں کے لئے تم نے سر بازار

تمہارا کل ہے اے ناداں یہ میرا آج نہیں ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s